اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر فلسطینی عوام کے خلاف صیہونی حکومت کے جاری جرائم، بالخصوص غزہ اور مغربی کنارے میں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر شدید نفرت اور گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے مسجد الاقصیٰ کے خلاف صیہونی حکومت کے وزیر اعظم کی بے شرمانہ گستاخی اور مسجد الاقصیٰ کے صحنِ براق کی بے حرمتی کی بھی شدید مذمت کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صیہونی قابض حکومت نے گزشتہ 3 برس کے دوران امریکہ اور انسانی حقوق کی دعویدار بعض حکومتوں کی مکمل فوجی، مالی اور سیاسی و تشہیری حمایت حاصل کرتے ہوئے غزہ میں دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشیوں میں سے ایک کا ارتکاب کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی فلسطینیوں کے خلاف اپنے شیطانی منصوبے ’’فلسطین کے نوآبادیاتی محو‘‘ کو آگے بڑھانے کے لیے مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کے منظم اور وسیع پیمانے پر قتل اور تشدد سمیت انتہائی سنگین طریقے اختیار کیے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فلسطینی خواتین اور بچوں کو یرغمال بنانا، جن کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے، اور انہیں خوفناک جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنانا، جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی شہید اور سیکڑوں افراد کے اعضا کاٹنے اور معذوری کا سامنا کرنا پڑا، بلاشبہ جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ یہ حقیقت کہ ہر ماہ اوسطاً کم از کم 3 فلسطینی قیدی تشدد کے نتیجے میں شہید ہوجاتے ہیں، نہ صرف صیہونی حکومت کی نسل پرستانہ اور نوآبادیاتی نوعیت کا ثبوت ہے بلکہ اس حکومت کے حامیوں کے منافقت اور اخلاقی زوال کی بھی عکاسی کرتی ہے، جو قابض حکومت کی جانب سے انسانی حقوق اور انسانی بنیادوں پر جنگ کے قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود بے حس بنے ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران غزہ اور مغربی کنارے میں صیہونی حکومت کے جرائم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اس حکومت کو دی جانے والی چھوٹ، جس میں فلسطینی عوام کے لیے انصاف کی کوشش کرنے والے بین الاقوامی عدالتوں کے ججوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں اور رپورٹرز کو دھمکانا اور ان پر پابندیاں عائد کرنا بھی شامل ہے، کسی صورت فلسطین کے لیے انصاف اور آزادی کی جدوجہد اور اسرائیلی مجرموں کے خلاف مقدمہ چلانے اور انہیں سزا دینے کے مطالبے میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مقبوضہ فلسطین میں صیہونی حکومت کی 8 دہائیوں سے جاری قبضہ گیری، دہشت گردی، قانون شکنی اور بے مثال جرائم، نیز خطے کے ممالک کے خلاف اس کی جارحیت اور جرائم نے بلاشبہ اقوام متحدہ اور عالمی قانون کی ساکھ اور مقام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ حقیقت کہ صیہونی حکومت اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے والوں میں سرفہرست ہے اور اسرائیلی قانون شکنی اور جرائم کا مقابلہ روکنے کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادوں کو سب سے زیادہ ویٹو کیا گیا ہے، خود اقوام متحدہ کی ساکھ اور مقام کو مجروح کرنے میں اس حکومت کے کردار کی واضح عکاسی کرتی ہے۔
بیان میں زور دیا گیا ہے کہ اب جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس درست طور پر رکن ممالک کے اس ادارے پر اعتماد کی ’’بحالی‘‘ کے موضوع کے لیے مختص کیا گیا ہے، ہر ذمہ دار ریاست کا فرض ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق، بالخصوص حق خودارادیت، کی حمایت اور انہیں 80 سالہ قبضے، نسل پرستی اور نوآبادیاتی تسلط سے نجات دلانے میں مدد کو ایک بین الاقوامی قانونی ذمہ داری اور اخلاقی و انسانی فریضے کے طور پر اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔
اس مقصد کے حصول کے لیے نسل کشی روکنے، صیہونی قبضے کے پھیلاؤ اور فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ روکنے، غزہ کے عوام تک انسانی امداد پہنچانے اور جرائم کے مرتکب افراد کا احتساب اور انہیں سزا دینے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
آپ کا تبصرہ